ماں کے نام
Poet: By: Muhammad Baber Zaman, Sahiwalتیرے باہجوں ایہہ دکھ دِل دا دَس میں کنوں کاں
ماں تُوں یاد آئونوں ہٹدی ناں
تیرے باہجوں ایہہ دکھ دِل دا دَس میں کنوں کاں
ماں تو چیتے آئونوں ہٹدی ناں
ماں تو یاد آئونوں ہٹدی ناں
خیراں منگدی رہندی سئیں توں میرے سِر دیاں مائیں
جا وے پترا تینوں اللہ عرشاں دے رنگ لاوے
میری دولت عزت شہرت سب کجھ تیرے ناں
ماں توں چیتے آئونوں ہٹدی ناں
ماں توں یاد آئونوں ہٹدی
اک واری چل خواب چ آجا آ کے سینے لا جا
جیڑا پانبڑ بلدا اے مائیں آ کے آپ بجھا جا
تیری یاد چ اتھرو کیراں جد وی کلا باں
ماں تو چیتے آئونوں ہٹدی ناں
ماں توں یاد آئونوں ہٹدی ناں
ماں جیا گھن چھاواں بوٹا مینوں نظر نہ آوے
اس توں لے کے چھاں ادھاری رب وی بہشت بناوے
تیرے ہندیاں تیری قدر نوں کوئی جانے ناں
ماں توں چیتے آئونوں ہٹدی ناں
ماں توں یاد آئونوں ہٹدی ناں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






