لہو لہو ہے وطن
Poet: ارشد ارشی By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiوطن میرا ہر روز لہو لہان ہوتا ہے
خون مادر وطن پر قوم کا ہر رو ز بہتا ہے
حاکم جو ہے میرا پھر بھی گہری نیند سوتا ہے
قوم کے بہتے لہو کے ہر قطرے کا بدلہ لینے کا
ہر دھماکے کے بعد میرا سپہ سالار کہتا ہے
کبھی جواب دینے کا حق محفوظ رہتا ہے
کبھی لاشوں کا معاوضہ ورثہ میں تقسیم ہوتا ہے
سینکڑوں لوگوں کو دہشتگر د ماردیتے ہیں
اور سینکڑوں کو علاج ہی میسر نہیں ہوتا
جگہ جگہ تھانے ، چوکیاں اور چیک پوسٹیں ہیں
مگر دور دور تک شفاء خانہ دیکھائی نہیں دیتا
پختہ کشادہ سڑکیں جاتی ہے حاکموں کے محلوں تک
شفا ء خانوں تک پہنچنے کا کوئی راستہ دیکھائی نہیں دیتا
نہ جانے کب تک بہے گا خون ارض پاک پر میری
وہ جو حق محفوظ رکھا ہے وہ کب استمال ہوگا
نہ جانے کون دے گا جواب کوئی دیکھائی نہیں دیتا
وطن پاک پر ابرہہ کا بدمست لشکر حملہ آور ہے
میرے معبود ابابیلوں کی چونچ میں کنکر کیوں نہیں دیتا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






