لوگ کہتے ہیں مجھ پہ اُداسی اچھی نہیں لگتی
Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujratلوگ کہتے ہیں مجھ پہ اُداسی اچھی نہیں لگتی
مجھ کو زمانہ کیا، یہ دُنیا ہی اچھی نہیں لگتی
اس قدر رُوندا گیا ہوں کسی کی نظر میں ، میں
ورق توکیا، مجھ کو اب قلم بھی اچھی نہیں لگتی
مُدتوں بعد دُھلے ہیں عرقِ آسماں سے غم
موسم کیا، مجھ کو بارش بھی اچھی نہیں لگتی
رانج ہیں مُقیم گھر اپنے،کب ہو گی نَقل مُکانی اِنکی
خزاں کا موسم کیا، مجھ کو بخار بھی اچھی نہیں لگتی
بے اعتبار سِی دُنیا اک تَنہا تماشا سا میں
جی ہاں موت کیا، مجھ کو زندگی اچھی نہیں لگتی
ایسا تنہا ہو ا، کہ غریب کا مُکاں ہی گِر گیا ہو جیسے
رقیب تو کیا ، مجھ کو ہر مِخفل ہی اچھی نہیں لگتی
جِینا ہوا مُحال نفیس، اچھا ہے کہیں سے موت خرید لوں
کِسی کو میں اچھا نہیں، کِسی کو باتیں اچھی نہیں لگتی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






