قطعات
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, RAWALPINDI نیرنگئی دوراں
رات دن آہ و فغاں میرے لئے
رنج و غم ہیں نا گہاں میرے لئے
پھر گئیں آنکھیں جہاں کی اس طرح
ہر قدم ہیں امتحاں میرے لئے
اقدار سوزیاں
انسانیت کا نکلا جنازا گلی گلی
حیوانیت کی عام ہوئی لہر آجکل
ہر سمت بم دھماکوں کا جب سلسلہ بڑھا
ماتم کدہ بنا ہے بھرا شہر آجکل
زندگی کی راہ
درد و غم، صدمے، الم، بے چینیاں ، مجبوریاں
زندگی کی راہ میں ہیں آفتیں، مجبوریاں
سر اٹھا کر کس طرح کوئی جئے گا دہر میں ؟
آدمی کے واسطے ہیں مشکلیں ، مجبوریاں
گرفت گردش ایام
ہیں تہہ در تہہ چھپے صدمے یہاں پر
کسے اندازہ ہو گہرائیوں کا
غریبوں کا ہوا ہے جینا دشوار
بڑھا ہے سلسلہ مہنگائیوں کا
مسئلہ
سسکتے ، بلکتے، ہوؤں کے لئے
عبث ہے کھری، کھوٹی کا مسئلہ
غریبوں کو سب مسئلوں سے بڑا
ہے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ
قناعت
ہم لوگ ذرا رنج میں ڈوبا نہیں کرتے
امید کا دامن کبھی چھوڑا نہیں کرتے
کرتے ہیں بسر اپنی قناعت میں ہمیشہ
شاہوں کی طرف حرص سے دیکھا نہیں کرتے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






