قسم لے لو تمہارے بعد
Poet: Zee Ali By: Zeeshan, jhelumقسم لے لو تمہارے بعد کسی کا خواب دیکھا ہو
کسی کو ہم نے چاہا ہو، کسی کو ہم نے سوچا ہو
کسی کی آرزو کی ہو، کسی کی جستجو کی ہو
کسی کی راہ دیکھی ہو، کسی کا قرب مانگا ہو
کسی کو ساتھ رکھا ہو، کسی سے آس رکھی ہو
کوئی امید باندھی ہو، کوئی دل میں اتارا ہو
کوئی تم سے پیارا ہو، کوئی دل میں بسایا ہو
کوئی اپنا بنایا ہو، کوئی روٹھا ہو تو ہم نے
اسے رو رو منایا ہو، دسمبر کی حسیں رت میں
کسی کا ہجر جھیلاہ ہو، کسی کی یاد کا موسم
میرے آنگن میں کھیلا ہو، کسی سے بات کرنے کو
کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں کسی کی بے وفائی پر
کبھی یہ نین برسے ہوں، کبھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر
تیرے دکھ میں نہ روئے ہوں، زی قسم لے لو
تمہارے بعد ہم ایک پل بھی سوئے ہوں، قسم لے لو
کبھی جگنو، کبھی تارے، کبھی مہتاب دیکھا ہو
قسم لے لو تمہارے بعد، کسی کا خواب دیکھا ہو
قسم لے لو، تمہارے بعد، کسی کا خواب دیکھا ہو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







