عشق
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaہو جاوے جے عشق حقیقی جگ دی فکر نہ ریندی
کُوک کُوک کے فیئر محبت ماہی ماہی کیہندی
لوکاں اگے ہس ہس کے جنڈ عشق دے صدمے سہندی
نہال نہیں فیئر مُڑ اوہ اُٹھدا جنوں مار عشق دی پہندی
لکھاں مرضاں تو اے ڈاہدی یارو عشق بیماری
واٹ عشق دی مُکدی نہیں ہو جاوے خجر خواری
ہر شے ہی مٹ جاندی جیڑی ہووے جان تو پیاری
نہال جان دے دشمن اتوں میں جاواں واری واری
لگ کے عشق دے پچ چھے تُوں اپنا آپ ونجائی ج
اپنے ہٹھی گھر اپنے نُوں ہس ہس کے اگ لائی ج
چھڈ کے مندر مسجد نُوں تُوں یار دے گھر ول جائی ج
نہال خون دے وانگ یار نُوں دل دے وچ وسائی ج
یارا عشق انوکھا ڈاکو لُٹ دا دن دہیاڑے
چھلے نے معشوم عاشقاں نُوں آپے واجاں مارے
دہندا اے سزاواں گنائونداں رات نُوں تارے
نہال عشق پُھلاں ہیٹھ رکھ اے انگیاڑے
زندگی دے وچ دُکھ سُکھ یارو کھیل اے بس تقدیراں د
علاج کدی وی ہوندا نہیں عشق دی لگیاں پیڑاں د
تُوں ہی جے میرے کول نہیں کیہ کرنا خط تصویراں د
نہال اُنوں ڈر کس گل دا ہٹھ ہووے جدے تے پنج پیراں د
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






