ظا لماں
Poet: naila rani By: naila rani, karachiوہ بو لے ا ٹھ کے ظالماں
تم شا عری نہ کیا کرو
یہ میرے نصاب کی کتاب ہے
تم ہر گز نہ اس کو پڑھا کرو
مجھے عشق ہے تیرے خیال حجاب سے
تم بے حجاب تخیل نہ کیا کرو
میں خطاب ابن خطاب تھا
ا پنے دور میں لا جواب تھا
مجھے وشق تھا کتاب سے
اور رسول پاک سے
اک اشا رے پہ انکے میں
میں لٹاتا تھا جسم و جاں
اے جان من مر تا تھا مٹتا تھا
اور لڑ کے شہدا بن جا تا تھا
وہ بو لے ا ٹھ کے بے و فا
بس تم شا عری نہ کیا کرو
پھر یوں ہوا کہ میں لٹ گیا
میں بہک گیا میں بھٹک گیا
مجھے سرور آ گہی نے گھا ئل کیا
اور اک عورت کے آگے جھکا د یا
اب میکدہ میرا مد ینہ بنا
اور جا ہلوں میں میرا شمار ہوا
میں سیاہ بخت سیاہ کار ہوا
مجھے عشق مجازی نے مار د یا
اب میں بھولا بھٹکا مسا فر ٹہرا
اور مجھے کو ئی ر ہنما نہ مل سکا
وہ بو لے اٹھ کے محر ماں
تم شا عری نہ کیا کرو
اس دور میں شا عری
ہے بے شوری اور اک گناہ
اے جان من اے جان جاں
تم شا عری نہ کیا کرو
بس تم شا عر ی نہ کیا کرو
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






