شھر ِ کراچی میں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadآج پھر سے قیامت سی برپا ہے شھر ِ کراچی میں
سر ِ بازار خونِ ناحق بہہ رہا ہے شھر ِ کراچی میں
نہ جانے کون ہیں یہ ظالم اور کہاں سے آتے ہیں
الہی تیرے بندوں کو یہ کیا ہوا ہے شھر ِ کراچی میں
ہر موڑ پہ بکھرے پڑے ہیں بے گور و کفن لاشے
ہر گھر سے دھواں اٹھ رہا ہے شھر ِ کراچی میں
یہ سوچ کے گھر سے کھیلنے نکلا تھا ننھا سا بچہ
شائد کہ یہ پٹاخوں کی صدا ہے شھر ِ کراچی میں
فکرِ فَکر میں جو نکلے تھے، لوٹے نہیں گھر کو
اب گھر گھر کہاں ماتم کدہ ہے شھر ِ کراچی میں
یہ بچوں کو نجانے ہے کس نے طمنچے تھمائے
کتابوں کی جگہ بارود بھرا ہے شھر ِ کراچی میں
اس شھر کے قاضی سے کوئی جا کہ اتنا تو پوچھے
حوسِ کُرسی و سیاست کا نشہ ہے شھر ِ کراچی میں
کچھ لوگوں نے تو ادا کیا حرفِ مذمت سے حق اپنا
وزیروں کا بھی تانتا بندہ رہا ہے شھر ِ کراچی میں
رضا کوئی تو اُٹھے علمِ نوائے حق لیکر یہاں بھی
سن کر تیری باتیں دل تڑپ گیا ہے شھر ِ کراچی میں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






