شعلہ فشانیاں
Poet: UA By: UA, Lahoreدر در پھرا کرتے ہیں آواروں کی طرح
گردش میں رہے ہر دم بنجاروں کی طرح
وہ شہر وہ گلشن وہ سماں کیا ہوا جناب
مستی میں رہتے تھے جہاں میخواروں کی طرح
بہار کیا گئی ہر پھول کا چہرہ اتر گیا
بھنورا بھی گنگنائے اوازاروں کی طرح
بلبل کا نغمہ ہوک ہوا باد خزاں سے
خاموش ہو کہ رہ گیا بےزاروں کی طرح
جیسے کوئی اپنے سائے سے بچھڑنے کے بعد
صحرا میں بھٹکتا ہے غم کے ماروں کیطرح
تھک ہار کے بیٹھا ہے تنہا ایک شاخ پر
مسیحائی کا منتظر ہو بیماروں کی طرح
ابر خزاں نے گلستاں کو خاک کردیا
اب کوئی بھی منظر نہیں نظاروں کی طرح
جب کرب تنہائی سے یہ چہرہ مرجھانے لگے
کھلتے ہیں تمہیں سوچ کے گلزاروں کے طرح
جب سے تیری یاد کا آنچل تھام لیا
کھلنے لگے مہکنے لگے بہاروں کی طرح
عظمٰی تیرے بیان کی شعلہ فشانیاں
لفظوں نے جلا پائی شراروں کی طرح
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







