سنا ہے مجھ سے بچھڑ کے وہ بے قرار نہ تھا
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanسنا ہے مجھ سے بچھڑ کے وہ بےقرار نہ تھا
یعنی تھا دعویٰ،حقیقت میں مجھ سے پیار نہ تھا
نبھاہ کرتے بھی ہم کیسے عمر بھر دونوں
جب ایک دوجے کی نیت پہ اعتبار نہ تھا
گلوں کی قدر نہ قدرت نے تم کو سکھلائی
چبھا تمھیں تو کبھی زندگی میں خار نہ تھا
خیال یار کی بارش میں بھیگتے تو مگر
غم جہان کا صحرا ہوا ہی پار نہ تھا
ملے تو پیار کے سورج میں پھر تپش نہ رہی
تھی دھول وقت کی ،جذبوں پہ وہ نکھار نہ تھا
وہ کام زیست میں کرنا پڑا مجھے اکثر
جسے میں کرنے کو دل سے کبھی تیار نہ تھا
ہماری قوم کی تقدیر جاگتی کیسے
کہ رہنما ہی ہمارا کوئی بیدار نہ تھا
گرا جو کھا کے میں ٹھوکر تو دوست ہنسنے لگے
اٹھایا جس نے وہ میرا عدو تھا ، یار نہ تھا
عجیب لگنے لگی ماں کے بعد یہ دنیا
میں اس کے ہوتے غموں سے ہوا دوچار نہ تھا
جو شعر کہتا تھا ،گمنام مر گیا زاہد
کلام خوب تھا پر اس کا اشتہار نہ تھا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






