سرراہ چلتے ہوۓ کسی سے چاہت نہیں ہوتی
Poet: sarwat anmol By: sarwat anmol, sargodhaسرراہ چلتے ہوۓ کسی سے چاہت نہیں ہوتی
کسی کی یاد میں تڑپے دل اب وہ محبت نہیں ہوتی
زمانے نے کر لی اب اس رفتار سے ترقی
یہاں کسی کوکسی کاحال پوچھنےکی فرصت نہیں ہوتی
جھوٹ بول کر جینے کے عادی ہو گۓ ھے ہم اس قدر
اب سچ بولنے کی کسی کو حاجت نہیں ہوتی
آنکھیں جن لوگوں کی مسکراتے ہوۓ نم ھو جاۓ
ان دلوں میں کسی کے لیۓ رقابت نہیں ھوتی
بے راوی کے اس کھیل میں کھو کر پھر
ایمان کی اپنے حفاظت نہیں ھوتی
جس تعلق کی بنیاد ہی محبت ھو
وہاں بھول کر بھی کسی سے نفرت نہیں ہوتی
بہت کچھ کر کے ہی بندہ مومن بنتا ھے
صرف سجدہ کرنے سے عبادت مکمل نہیں ھوتی
کہتی ھے انمول تنہائ میں کر لو سکونت اختیار
لوگوں کےاس ہجوم میں کسیکوکسیکی ضرروت نہیں ہوتی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






