سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا
Poet: انجم سلیمی By: عرفان آصف, Islamabadسب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا
لیکن ایسا سب کچھ لٹ جانے کے بعد کیا
اس کو اس کی اپنی قربت نے سرشار رکھا
مجھے تو شاید میرے ہجر نے ہی برباد کیا
میں بھی خالی ہو کر اپنے گھر لوٹ آیا ہوں
اس نے بھی اک ویرانے کو جا آباد کیا
کس شفقت میں گندھے ہوئے مولا ماں باپ دیے
کیسی پیاری روحوں کو میری اولاد کیا
عشق میں انجمؔ لے ڈوبی ہے تھوڑی سی تاخیر
جنموں پہلے جو واجب تھا وہ مابعد کیا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






