سارے جہان کی مایوسیاں میرے بخت کی گود میں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaاُداسیوں کے شہر میں غم کی جاگیر میری ہے
خوشیوں کے درمیان جو کھینچی گئی لکیر میری ہے
میرا تخت ہے خاک کا سر پہ تاج بدنامیوں کا
میں شہنشائے غربت ہوں حالتِ دلگیر میری ہے
میری زندگی میں ہیں تلخیاں میری سوچ میں کہرام ہے
میرے اپنے ہی ارمانوں پہ تیز دار شمشیر میری ہے
سارے جہان کی مایوسیاں میرے بخت کی گود میں
خواب ہیں میرے ڈراؤنے حیات تعبیر میری ہے
نہ وہ جھنگ سیال سے نہ میں تخت ہزارے کا
نہال دل یونہی رانجھا بنا رہا کہتا وہ ہیر میری ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






