زندگی اور بھی پر جوش ہوئی جاتی ہے
Poet: Khalid ROOMI By: Khalid ROOMI, Rawalpindi زندگی اور بھی پر جوش ہوئی جاتی ہے
اب تری یاد فراموش ہوئی جاتی ہے
بزم پھر بے خود و مدہوش ہوئی جاتی ہے
وہ نظر بادہ سر جوش ہوئی جاتی ہے
عرصہء حشر کی رونق ہیں ادائیں ان کی
نگہ خاص خطا پوش ہوئی جاتی ہے
پیر میخانہ دکاں اپنی بڑھانے کو اٹھا
مستیء شوق فراموش ہوئی جاتی ہے
عشق میں ضعف نے اس حال کو پہنچایا ہے
زندگی بار تن و توش ہوئی جاتی ہے
دل کے گلشن میں بھی آیا ہے خزاں کا موسم
آرزو محشر خاموش ہوئی جاتی ہے
اب ہمیں راحت و آرام کی خواہش ہے کہاں ؟
ہر خوشی اب تو الم کوش ہوئی جاتی ہے
سر بسر نقشہ بنا جاتا ہوں بے تابی کا
یاس ہی یاس ہم آغوش ہوئی جاتی ہے
دل میں جذبات عقیدت ہیں ، نگاہوں میں نیاز
لو، وفا صدقہء پاپوش ہوئی جاتی ہے
کوئی طوفان اٹھائے گی یقینا رومی !
پھر طبیعت جو بلا نوش ہوئی جاتی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






