رونق لگی ہے چلو چلتے ہیں میخانے میں
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود, نونٹگھم یو کےرونق لگی ہے چلو چلتے ہیں میخانے میں
کیا رکھا ہے یہاں اِس بے درد زمانے میں
ہم تو کرتے رہے ہمیشہ اُسے پیار بہت
وہ آزماتے رہے جو ماہر تھے آزمانے میں
یوں تو چل دیتے ہو تم غیروں کے ساتھ
مگر کیا حرج ہے تمہیں میرے پاس آنے میں
میخانہ میری منزل نہیں جام میری زندگی نہیں
مجھ سے پوُچھو کتنا ہے مزہ نغمے یادوں کے گنگنانے میں
سُنا ہے ہم نے خواب تو اکثر ٹوٹ جاتے ہیں
اِس لیے ہم بھی مگن ہیں خواب سجانے میں
وہ کہتے ہیں تم اب نہ رہے ہو میرے پیار کے قابل
اور یہ بھی کہا ہے کہ ہم گلشن ہیں نئے یارانے میں
کیوں مجھے اکثر یہ بہار اُداس کر دیتی ہے
دوستو مجھے دیر ہو جائے گی یہ داستان سنانے میں
کچھ خط چند غزلیں اور ایک تصویر میری خیال
مسعود اُس نے زرا دیر نہ لگائی اُنہیں جلانے میں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






