روشنی کے مقدر میں نیندیں کہاں، چاند میں تاک پردہ سجائیں کہیں
Poet: Basheer Badr By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIروشنی کے مقدر میں نیندیں کہاں، چاند میں تاک پردہ سجائیں کہیں
ہمیں چراغ وفا کی طرح جلنا ہے رات بھر آسماں تا زمیں وہ جلائیں کہیں
وہ بھٹکتی ہوئی روحیں جیسے ملیں، یوں ملے وہ نگاہیں مگر خوف ہے
زیست ہے رات میں جنگلوں کا سفر اس جنم میں بھی ہم کھو نہ جائیں کہیں
شہرتیں مثل مینارِ عظمت ہمیں آسماں کی طرف لے چلی ہیں مگر
جی میں ہے سبز پیغمبروں کی طرح سینائے سنگ سے سر اٹھائیں کہیں
بر ف سی اجلی پوشاک کے پہنے ہوئے پیڑ جیسے دُعاؤں میں مصروف ہیں
وادیاں پاک مریم کا آنچل ہوئیں آؤ سجدہ کریں سر جھکائیں کہیں
کوئی کتبہ نہیں ہے سر راہ ہم جس پہ اقوالِ زریں بدلتے رہیں
ہم تو آنسو ہیں پلکوں پہ رکھ لو ہمیں جب اشارہ کرو ٹوٹ جائیں کہیں
ان کہے شعر ہیں وادیئے جہاں میں مختلف رنگ کے جھلملائے دیئے
دستِ الفاظ محفوظ کر لے ا نہیں چل رہی ہے ہوا بجھ نہ جائیں کہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






