راہی میں راہِ عشق کا خود کو گنوا کے بھی
Poet: Ishtiaq Ahmed Yaad By: Ishtiaq Ahmed Yaad, Gilgit راہی میں راہِ عشق کا خود کو گنوا کے بھی
عادت گئی نہ پیار کی سب کچھ لُٹا کے بھی
ارمانِ وصلِ یار نہ پورا ہوا ابھی
یادوں میں اُس کی خون کے آنسو بہا کے بھی
آتا نہیں ہے اُس کو یقیں دِل کے زحم کا
دیکھا ہے میں نے چِیر کے سینہ دِکھا کے بھی
خوشبوئے پھولِ جانِ غزل مِل نہیں سکی
قلب و جگر میں عشق کا غُنچہ کِھلا کے بھی
کانٹے بھی میری راہ کے لگنے لگیں گے پھول
دو گام میرے ساتھ چلو مسکرا کے بھی
اِ س دل کو تیری دید کی کب سے ہے آرزو
اِک بار دیکھ لو مجھے پردہ اُٹھا کے بھی
آبِ حیات جان کے پی لوں گا میری جان
تُو دیکھ مجھ کو زہر کا پیالہ پِلا کے بھی
دے گا اذانِ عشق ہر اِک قطرۂ لہو
دیکھو گے منصفو! مجھے سُولی چڑھا کے بھی
پوری کروں گا خود کو جلا کر یہ داستاں
کچھ بھی نہیں مِلا ہے دِل و جاں جلا کے بھی
دہلیز انتظار کی اِک تیری یاد ؔ میں
دیمک زدہ ہوئی ہے ذر ا دیکھ آ کے بھی
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







