دیکھ کے تم کو ہوا میں مبتلاۓ اضطراب
Poet: فہد مشتاق فہد By: Fahad Mushtaq Fahad, sadiqabadدیکھ کے تم کو ہوا میں مبتلاۓ اضطراب
کچھ نہیں ہوتا مجھے اب ماسواۓ اضطراب
مجھ کو کرنا تھا خدا نے مبتلاۓ اضطراب
تو تمہیں بھیجا مرے آگے براۓ اضطراب
ہے زباں پر وِرد ہر دم ہاۓ ہاۓ اضطراب
ابتدا ہی میں ہوا ہے انتہاۓ اضطراب
تم نے دیکھا مجھ کو تو بے چین میرا دل ہوا
مختصر سا ہے مرا یہ ماجراۓ اضطراب
مان لُوں تجھ کو مسیحا بے تامل میں اگر
کر دے تُو ایجاد چارہ گر دواۓ اضطراب
روح میں میری کچھ ایسے ہو گیا پیوست یہ
جان جاۓ پھر کہیں یہ ساتھ جاۓ اضطراب
کیا فغاں کرتے ہو ہر دم تم نے یہ اچھی کہی
تم کو ہو معلوم جب یہ تم پہ آۓ اضطراب
یہ الم تم نے دیا یہ رنج بھی تم سے ملا
پھر بتاؤ کیوں نہ ہو جاؤں فداۓ اضطراب
باعثِ مضطر نہ کیوں کر ہو فہد پھر یہ غزل
لفظ ہر اک شعر میں کیا ہے سواۓ اضطراب
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






