دیارِ یار میں سوچا نہیں تھا أأأأ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادیارِ یار میں سوچا نہیں تھا
مجھے جینے کا اندازہ نہیں تھا
ہوئے آسان یہ جیون کے لحمے
یہ کس احساس کو دیکھا نہیں تھا
جو اک طوفاں ہے اپنی خامشی میں
جو بن کر آنکھ میں ڈوبا نہیں تھا
ہوئے دونوں کچھ ایسا سوچ کر چپ
کہ وہ چپ ہیں ادھر سوچا نہیں تھا
اک اس کی ہی کمی رہتی ہے ورنہ
جو آ نکلا کبھی میرا نہیں تھا
سناؤں کیا میں اپنے غم کے قصے
تمہارے وعدے اب خطرہ نہیں تھا
وہ گل ہو یا غزل بے جان ہوگی
ضمیر اپنا تو ہے رویا نہیں تھا
مجھے معلوم ہے رستہ تمہارا
غموں کا دیکھ کر رویا نہیں تھا
ہمارا انتظار اب بھی ہے قائم
ابھر آتا ہے دل سویا نہیں تھا
انہیں سے ہے مجھے ڈسنے کا خطرہ
کسی کے در پر سجدہ نہیں تھا
ہماری آنکھ میں ہے حسرتِ دید
میں وحشت لے چلی صحرا نہیں تھا
اتر کر دل کے آئینوں میں وشمہ
کسی کے دل پر قبصہ نہیں تھا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






