دل کے تن، من پہ چل گئے آرے
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالدل کے تن، من پہ چل گئے آرے
جب یہ جانا کہ ہم تجھے ہارے
ہجر دونوں کو ہی نصیب ہوا
ایسے کِس نے کِیے تھے بٹوارے؟
آسماںِ دل زمین بوس ہوا
اور گئے ٹوٹ سانس کے تارے
دمِ لب زندگی نے خوں تُھوکے
ٹوٹتے سانس موت پر وارے
آتشِ عشق سے جلا یُوں وجود
جل بُھنے ذات کے ہی انگارے
چِر گیا جسم، دِل لہو ہو گیا
اور بہے خوں کے آنکھ سے دھارے
وصل اور ہجر اب کہاں ہو تم
جو بھی تھے شوق وہ گئے سارے
شادی ہے کرب و ہجر کی، ہر سُو
آہ کے گونجتے ہیں نقّارے
آسماں لال اور ہے سرخ زمین
جیسے نکلے ہو خوں کے فوّارے
آنکھ کے گھر میں نبضِ نیند گئی
خواب غش کھا کہ مر گئے پیارے
ہم جو دکھتے ہیں نیم جاں تم کو
عشق کے وار سے گئے مارے
اپنی رانوں تلے ہلاک ہوئے
بسترے پر پڑے ہیں بیچارے
وہ کہ جن جن کو ہم نے یاد رکھا
مر گئے آج سب کے سب پیارے
سینہ خالی ہوا جنید گیا
مگر ارمان رہ گئے سارے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






