دل تو اقرار محبت کرے
Poet: MahERooh By: MahERooh, Gujranwalaدل تو اقرار محبت کرے مگر ہم نے کبھی یہ مانا ہی نہیں ہے
عشق کے رموز و اوقاف کو یہاں کسی نے جانا ہی نہیں ہے
رہ گئے محض قصوں میں جنوں قیس و عشق لیلا
نہ دو ان کی مثال کہ اب وہ وقت وہ زمانہ ہی نہیں ہے
دل تو لٹنے سے بچا لیا پھر بھی اس قدر سوز والله میری توبہ
ایک مدت سے ہم نے اپنے درد کا سبب پہچانا ہی نہیں ہے
پکارا جو طبیبوں کو درد دل کی دوا کے واسطے تو جواب آیا
اس مرض جان لیوا کے علاج کا کوئی دواخانہ ہی نہیں ہے
اس نے بھی میری زبوں حالی سے جان لیا میرے کرب کو
ورنہ ہم نے تو سوچا تھا دل کا عالم اسے بتانا ہی نہیں ہے
میرے لفظوں کا مطلب سمجھو مت جاؤ الفاظ کے چناؤ پر
یہ میرے دل کی آواز ہے کسی شاعر کا ترانہ ہی نہیں ہے
یہی عالم تشنگی رہا تو زیست کٹ جائے گی سفر میں
سنا ہے دیوانوں کا اس جہاں میں کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے۔۔!!
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






