حیاتَ غُم گشتہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindiیادیں کچھ بیتے لمحوں کی
کیا تُجھ کو بھی تڑپاتیں ہیں
معصوم سے کھیل لڑکپن کے
اور سُندر خواب جوانی کے
کیا تُجھ کو بھی یاد آتے ہیں
وُہ دھول اُڑاتی گلیوں میں
وُہ گاؤں کی پگڈنڈیوں پر
اُن اُونچے نیچے رستوں پر
جو بھاگے داڑے پھرتے تھے
اور کھیتوں میں کھلیانوں میں
جو ننگے پاؤں چلتے تھے
اَ ک لڑکی تھی اَک لڑکا تھا
کیا تجھ کو بھی یاد ُ آتے ہیں
گرما کی گرم دوپہروں ہیں
پیپل کی گھنیری چھاؤں تلے
تالاب کنارے بیٹھ کے وُہ
اُس ٹھنڈے ٹھنڈے پانی پر
کچھ عکس اُبھارا کرتے تھے
پھر باتیں کرتے رہتے تھے
اور دھول اٹے پیروں کو وُہ
پانی میں جھلا کر دھوتے تھے
اور جھاگ اُڑایا کرتے تھے
کیا تجھ کو بھی یاد آتے ہیں
اَک لڑکی تھی اَک لڑکا تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






