جینے کی مشقت گاہ میں ہُوں، پابندِ سَلاسِلِ مجبوری
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiجینے کی مشقت گاہ میں ہُوں، پابندِ سَلاسِلِ مجبوری
اِک پیاس نہ بجھنے والی ہے، اِک زہرِ ہَلاہِلِ مجبوری
جینے کے سودے نے ہم کو، کم از کم دو موتی تو دیے
اک آہ منافعِ حسرت کی ، اک نوحہ، حاصلِ مجبوری
یہ سوز لہُو میں کیونکر ہے، یہ جاں کی حرارت کیا شے ہے
اک آنچ ہے ہلکی ہلکی سی، اِک تاؤ شاملِ مجبوری
اک وہ ہیں جو ایک زمانے سے ساحل کے لیے سرگرداں ہیں
اک ہم ناشکرے ہیں جنکی قسمت میں ہے ساحلِ مجبوری
ہم سادہ لوح سہی لیکن، قسمت کی لوح تو سادہ نہیں
کندہ ہے جلی حرفوں میں وہاں تحریرِ منازلِ مجبوری
تُم سے کیسا اِخفائے غم، تُم سے کیسی پردہ داری
سینے میں چھپائے بیٹھی ہُوں درہائے منازلِ مجبوری
مت یاد دِلا، مت مجھ کو رُلا، مت درد بڑھا، مت حشر اُٹھا
اِس قیدِ صعوبت میں ہمدم مت چھیڑ مسائلِ مجبوری
جینا تو بہت مشکل ہے ہی، مرنا بھی نہیں آساں عاشی
جیتی نہیں بادلِ مختاری، مرتی نہیں بادلِ مجبوری
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






