جو بات تمہیں کل کہنی ہے وہ بات ابھی سے کہہ دو نا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجو بات تمہیں کل کہنی ہے وہ بات ابھی سے کہہ دو نا
تم میرے دِل میں بس جاؤ ، میری سانسوں میں مہکو نا
کچھ دیر لبِ ساحل رُک کر لہروں کا تماشا دیکھیں گے
تم گیلی ریت پہ انگلی سے پھر نام ہمارا لکھو نا
اس دنیا کے ہنگاموں سے اِک روز جو فرُصت مِل جاۓ
میں کون ہوں ، کیا ہوں ، کیسی ہوں میرے بارے میں سوچو نا
اِس حال میں ہم کو دیکھیں گے، تو لوگ بھلا کیا سوچیں گے؟
میں دِل کا درد چھپا تی ہوں ، تم اپنے آ نسو پی لو نا
تِرے لمس سے تپتے جذبوں کو تھوڑی ٹھنڈک مل جاۓ گی
میری جلتی پیشانی پر تم ہاتھ اپنا پھر سے رکھو نا
تم جانے سوچ رہے ہو کیا ،کیا پیار بھی سوچ کے ہوتا ہے؟
بن سوچے سمجھے پیار کیا میں نے تو تم سے دیکھو نا
یہ دردِ محبت سہنا تو ، ہے کام بڑے دِل والوں کا
تم اپنا دِل واپس لے لو اور میرا دِل لوٹا دو نا
دنیا میں لاکھوں دِلبر ہیں ، تم جیسا لیکن ایک نہیں
تم کتنے اچھے لگتے ہو یہ میرے دِل سے پوُ چھو نا
اس پیار سے بڑھ کر دنیا میں کویٔ شے بھی انمول نہیں
تم چھوڑ دو ساری دُنیا کو اور میرے پاس آ جاؤ نا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی







