جب سے ٹوٹا ہیں یہ دل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجب سے ٹوٹا ہے یہ دل
اب بےقرار نہیں رہتا
ان آنکھوں میں
اب کسی کا کوئی
انتظار نہیں رہتا
نیند اپنے وقت
سے آ جاتی ہے
اب نیند کا مجھ سے
کوئی اختلاف نہیں رہتا
کچھ خبر نہیں
دن کب گزرتا ہے
شام کب ہوتی ہے
اب کسی سے ملنے
کا کوئی خیال نہیں رہتا
سب ہی تو موسم
ایک جیسے ہیں
اب چاند تاروں میں
کوئی احساس نہیں رہتا
زندگی تو چل رہی ہیں مگر
اب اور جینے کا دل میں
میں کوئی اشتاق نہیں رہتا
اب کچھ یاد بھی آئے تو
ان آنکھوں میں کوئی
سیلاب نہیں رہتا
دعا تو اب بھی میں
مانگتی ہوں مگر
ہاتھ ُاٹھا کر کوئی
لفظ یاد نہیں رہتا
اگر سوچوں تو ۔۔۔۔۔۔
کتنی الجھنیں ہیں
میری زندگی میں مگر
اب سلجھانے کا
کوئی انداز نہیں رہتا
اک بار تو
سوچ لو جاناں
کہ تم سے جدا ہو کر
تم سے عشق
کرنے والا شخص
زندہ رہتا ہے یا پھر
زندہ بھی نہیں رہتا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






