جب ترے غم گنوائے جائیں گے
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالجب ترے غم گنوائے جائیں گے
خون کے اشک لائے جائے گے
جب لیا جائے گا وفا کا حساب
بے طرح زخم کھائے جائیں گے
جو جنوں میں کیے گئے ویران
کل وہی گھر بسائے جائیں گے
جاں نثاری کا دعوہ ہے جن کا
دشمنوں میں ہی پائے جائیں گے
جانیے کون اسے کرے گا یاد
جب اسے ہم بھلائے جائیں گے
ہو گا جب اس سے سامنا اپنا
لب پہ شکوے سجائے جائیں گے
دن وہی ہو گا جاودانی کا
دار پہ جب چڑھائے جائیں گے
ہو کہ مہجور تیری بانہوں سے
در بدر ہم پھرائے جائیں گے
اب جو ہم ہیں ہماری خلوت کے
کل لبوں سے سنائے جائیں گے
شوق اور زندگی تبہ کر کے
ہجر کے گھر اٹھائے جائیں گے
اُس گلی سے نکال کے ہم کو
ڈھول باجے بجائے جائیں گے
بے سبب بے دلی کے عالم میں
حال اپنے بُجھائے جائیں گے
جھانسے دے کر ہمیں اُمیدوں کے
دامن اپنے چھڑائے جائیں گے
ہم جو ہیں صرف داستانوں کے
منظرِ عام لائے جائیں گے
کوئی معنٰی نہیں وفاؤں کے
بس یونہی دن گنوائے جائیں گے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






