جب بچھڑے تھے ہم تو بہت دیر مسکرایا تھا
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATجب بچھڑے تھے ہم تو بہت دیر مسکرایا تھا
ہاں یہ وہی شخص ہے جس نے ہمیں رلایا تھا
نمی اور درد ان آنکھوں میں بڑھتے دیکھ زرا
خلوص آفریں! کیا اسلیے ہمیں ہنسایا تھا..؟
جب کہہ گیا تھا ہمیں چند لمحے انتظار کا تو
اس کے بعد کسی نے...... وقت نہیں بتایا تھا؟
ہم تیرے بعد کھڑے.... تنہائیوں میں شرمندہ
بس یہی سوچتے ہیں.... "آخر وہ کیوں آیا تھا؟"
ہم قفس توڑ کر چلے آے تھے..... صدا پر تیری
خود لوٹنا ہی تھا..... تو ہمیں پھر کیوں بلایا تھا
یہ ہماری خشک خاک، کسی اور راہ کا غبار تھی
وہ تیرا عشق تھا ..... جو ہمیں .. یہاں پہ لایا تھا
تو جانتا تھا تعبیر اس کی کبھی نہیں ممکن
ہم نادانوں کو پھر .... یہی خواب کیوں دکھایا تھا
اندھیرے بڑھا رہے ہیں اضطراب.... میری چندا
لوٹ آ.. دیکھا ہم نے اتنا تو نہیں ستایا تھا؟
ہم مسافر وہ جو دن رات سفر میں رہتے تھے
ہیں آج... اب بھی وہیں.... تو نے جدھر گرایا تھا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






