جا تو رہے ہو آنسو دے کے
Poet: Ibn.E.Raza By: Ibn.E.Raza, islamabadجا تو رہے ہو آنسو دے کے
بدلے میں کچھ یادیں لے کے
نہیں معلوم یہ آنسو میرے
دُکھ کے ہیں یا مسرتوں کے
مجھے بس اتنی خبر ہے
کہ جب دُور جانے والے
نظروں سے اوجھل ہوجائیں
قُربتیں فاصلوںمیں ڈھل جائیں
پھر فرُقتوں کا راج رہتا ہے
زُباں پہ قفل ہوتے ہیں
دل دھڑکنا بھول جاتا ہے
خُوشیاں کتنی عارضی ہوتی ہیں
دھوپ چھاؤں کی طرح ہی ہوتی ہیں
پل میں دامن چُھڑا لیتی ہیں
ہنستوں کو رُلا دیتی ہیں
یہ کیسے کھیل تماشے ہیں
وہ لوگ جو اپنے ہوتے ہیں
کیوں غیروں کے ہوجاتے ہیں
اور بِھیڑوں میں کھو جاتے ہیں
یہ قصّہ فہم سے بالا ہے
یہ دستور بہت نرالا ہے
جوسائے کی طرح تھا ساتھ میرے
اب چھوڑکے جانےوالا ہے
سُنو یہ چھوٹی سی التجا ہے
سُنو یہ میرے دل کی دُعا ہے
سُنو یہ نئےسفر کی ابتدا ہے
سُنو اُداس مت ہونا
یونہی ثابت قدم رہنا
کہ تمھیں اُداسی اچھی نہیں لگتی
یہ بدحواسی اچھی نہیں لگتی
تم مسکراتے ہوئے جانا
چاہے نہ لوٹ کے آنا
بس یاد یہ رکھنا
کسی کو پیچھے چھوڑ آئے ہو
کوئی معصوم سا دل توڑ آئے ہو
چلو کوئی بات نہیں اپنی
تمھیں نئی راہیں مبارک ہوں
اب نئی باہیں مبارک ہوں
تجھےالودع اے جانے والے
یہ آنسو نہیں اب تھمنے والے
جا تو رہے ہو آنسو دے کے
بدلے میں کچھ یادیں لے کے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






