جانے کیا دل میں سوچ کے ہوتی ہے آنکھ نم
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiبیتے دنوں کی یاد میں آنسو بہائیں ہم
اگلی رفاقتوں کو کہاں بھول پائیں ہم
خوشیوں کی آرزو میں ملے غم ہی غم ہمیں
اتنا نہ ہو سکا کہ کبھی مسکرائیں ہم
جانے کیا دل میں سوچ کے ہوتی ہے آنکھ نم
دستِ دعا طلب میں تری جب اٹھائیں ہم
سوچا ہے اہتمام یہ فرقت کی رات کا
وہ آئے تو ہر گام پہ مژگاں بچھائیں ہم
دیتے ہیں لوگ دھوکا بڑے ہی خلوص سے
کس پہ کریں بھروسہ کسے آزمائیں ہم
راہیں اسی کی یاد سے منسوب ہیں نثار
آؤ کہ اپنے گھر کی طرف لوٹ جائیں ہم
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






