تیری تصویر کو دیکھا تو یہ احساس ہوا
Poet: UA By: UA, Lahoreتیری تصویر کو دیکھا تو یہ احساس ہوا
جیسے تصویر کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
خواب میں تجھ سے ملاقات ہوئی تھی اک دن
دیکھ کے خواب یہ احساس ہوا تھا مجھ کو
ایسی تعبیر کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
کون جانے یہ تخیل ہے یا حقیقت ہے
کون جانے یہ عنایت ہے یا ضرورت ہے
کون جانے یہ آرزو ہے یا حسرت ہے کوئی
کون جانے یہ عقیدت ہے یا محبت ہے
کون جانے یہ عداوت ہے یا کہ چاہت ہے
کوئی تعلق کوئی رشتہ کوئی تو واسطہ ہے
خواب کا زندہ حقیقت سے کوئی رابطہ ہے
جسے پہلے نہیں دیکھا اسے جب دیکھا ہے
تو یہ احساس ہو پہلے کہیں دیکھا ہے
مل چکے ہیں کبھی پہلے بھی ہم کہیں نہ کہیں
آج دیکھا تمہیں تو دل کو یہ احساس ہوا
جو دل کے پاس تھا وہ ہی نظر کو راس ہوا
تیری تصویر کو دیکھا تو یہ احساس ہوا
جیسے تصویر کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
خواب میں تجھ سے ملاقات ہوئی تھی اک دن
دیکھ کے خواب یہ احساس ہوا تھا مجھ کو
ایسی تعبیر کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






