تیری آواز محبت کی پکاروں کی قسم
Poet: Ishraq jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Dubai-U.A.Eہم دماغوں میں نظریے کو بسا کر آئے
دل کو افکار کی کرنوں سے سجا کر آئے
تیرے قدموں کے نشانوں کی چمک سے قائد
راہ تا ر یک سے ہم خار ہٹا کر آ ئے
ظلم کے راج میں با زار ضمیروں کے لگے
پھر بھی ہم اپنی وفاؤں کو بچا کر آ ئے
تیری آواز محبت کی پکا روں کی قسم
خواب غفلت میں پڑے لوگ جگا کر آ ئے
تیرے عاشق جو کہیں روٹھ کے جا بیٹھے تھے
تیری چاہت کی قسم دے کہ منا کر لا ئے
تیرے رستے سے جو بھٹکے کسی مجبوری سے
ہم انہیں راہ محبت پہ چلا کر آ ئے
وہ جو حالات کے مارے ہوئے رنجیدہ تھے
ان کو خوشیوں کی بشارت بھی سنا کر آ ئے
ان اندھیروں کی حکومت کے شہنشاہوں کو
ہم اجالوں کی خبر دے کہ ڈرا کر آ ئے
وہ جو روتے تھے نصیبوں کی پریشا نی سے
دن بدلنے کی نویدوں سے ہنسا کر آ ئے
دل کے مندر سے اناؤں کے بتون کو ڈھا کر
خود پسندی کا ہر اک نقش مٹا کر آ ئے
تیرے خورشید صداقت کی تجلی سے اشہر
مشعلیں ہم بھی محبت کی جلا کر آ ئے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






