تُم
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaتُم مری سوچ پہ بیٹھی ہوئی اک تتلی ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
مجھ کو اُلجھائے سے رکھتے تھے تصور کے سراب
تُم سے پہلے تو کھلے تھے نہ خیالوں میں گُلاب
اب سکوں میں ہوں مرے ذہن پہ تُم طاری ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
پوچھنا کیا ہے؟ معطر سی چلی آیا کرو
چاہتا ہوں کہ تُم اکثر ہی چلی آیا کرو
فیض ہی فیض کا چشمہ یہ سدا جاری ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
گُل تری راہ جو دیکھے تو مہک اترائے
اور کلی تیری نزاکت پہ کھلے شرمائے
کون ہے جس پہ ترا ناز ادا بھاری ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
ہاں میں چھو کر تُجھے میلا تو نہیں کر سکتا
رنگ بکھریں گے جو اظہر تو نہیں بھر سکتا
تُجھ کو وہ قید کرے عقل سے جو عاری ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
تُم مری سوچ پہ بیٹھی ہوئی اک تتلی ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ







