تو آئینہ ھے مجھ کو تیرا خیال رکھنا ھے
Poet: MZ By: MZ, karachiتو آئینہ ھے مجھ کو تیرا خیال رکھنا ھے
کھیں تو ٹوٹ نہ جائے تجھے سنبھال رکھنا ھے
ھر اک مسئلے کا تیرے حل نکال رکھنا ھے
زھانت سے اپنی تجھے حیرت میں ڈال رکھنا ھے
گر جو کبھی تو ترک تعلق کی بات کرے
روک کر تجھے کل پہ ٹال رکھنا ھے
تیرے درد کو چن لینا ھے پلکھوں سے اپنی
تیرے واسطے خود کو نڈھال رکھنا ھے
نھیں ڈوبنے دینا تجھے دکھ کے دریا میں
تیرے وجود کی ناؤ کو اچھال رکھنا ھے
بلاؤں کو تیری دعاؤں سے روک لوں اپنی
تیرے چار سو اپنے ھاتھوں کی ڈھال رکھنا ھے
سناؤں ایسی دھن کہ نہ ھو تجھ کو کبھی طلب
اپنی ھنسی میں وہ منفرد کمال رکھنا ھے
نہ ھو جائے کبھی تجھ کو میرے رو برو ندامت
تیرے سامنے ھمیشہ آسان سوال رکھنا ھے
بچھڑ کے مجھ سے نہ جائے تو دنیا کی ٹوکرں میں
تجھ کو اپنے پاس رکھ کر لازوال رکھنا ھے
کھو نہ جائے تو زندگی کے اندھیروں میں کھیں
تیرے واسطے اجالوں کو غلام رکھنا ھے
رھا منتظر اس کا تو دھوپ میں اھل وفا
وہ جب لوٹے تو چھاؤں کو نکال رکھنا ھے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






