توڑ کے سارے مراسم وہ بہت دور ہیں اب
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanنہ وہ پہلی سی عنایت ہے نہ پہلے سا غضب
توڑ کے سارے مراسم وہ بہت دور ہیں اب
اب جدائی کا ہے موسم وہ ملن رت نہ رہی
جانے پھر لوٹ کے آئے گا زمانہ وہی کب
ایک رسوائی بنی جاتی ہے یہ زیست مری
انگلیاں اٹھتی ہیں مجھ پہ یونہی ہنس دیتے ہیں سب
اب خیالوں میں اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں
اب کسی طور بھی کٹتے ہیں نہ دن اور نہ شب
کوئی بتلائے کہ یہ زیست گزاروں کیسے
آج تک آیا نہ جینے کا مجھے کوئی بھی ڈھب
کوئی بھی آیا نہ اس غم میں تسلی دینے
دوست نکلے ہیں برے وقت میں کتنے ہی عجب
اس کی بازار میں قیمت نہیں ہوتی کوئی
جس کی تھوڑی سی بھی رہتی نہیں لوگوں میں طلب
مجھ سے پھر یوں نہ خفا ہو گی مری جان غزل
میری باتوں کا سمجھ جاؤ اگر تم مطلب
درد میں ڈوبے ہیں زاہد یہ جو دن رات مرے
اس تڑپنے کا بتاؤں تو بتاؤں کیا سبب
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






