تم سے رشتہ ہی نہیں تو یاد اتنی کس لۓ؟
Poet: dr fakhar abbas By: dr fakhar abbas, lahoreتم سے رشتہ ہی نہیں تو یاد اتنی کس لۓ؟
کر رہا ہے دل مرا فریاد اتنی کس لۓ؟
اک ذرا سی دیر ملنا اور محبت کا جنوں؟
دل میں ہے یہ درد کی اُفتاد اتنی کس لۓ؟
میں خدا کی یاد سے غافل ہوں اور مخلوق سے
دل کی دنیا ہے مری آباد اتنی کس لۓ؟
عشق بھی کرتا نہیں ہوں ٹک کے میں اک شخص سے
یہ طبیعت ہے مری آزاد اتنی کس لۓ؟
مجھ سے کوئی بھی تعلق جس نے رکھا ہی نہیں
اُس کی خاطر زندگی ناشاد اتنی کس لۓ؟
میں نہ عابد ہوں نہ زاہد پھر بھی اے میرے خدا
کر رہا ہے تُو مری امداد اتنی کس لۓ؟
یہ بھی ممکن ہے کہ آۓ کل مجھے ملنے کو تُو
آ رہی ہے مجھ کو تیری یاد اتنی کس لۓ؟
شاعری ہے ، عاشقی ہے، کیا سبب ہے دوستو؟
زندگانی ہے مری برباد اتنی کس لۓ؟
نرسری میں سب سے پہلا عشق میں نے جو کیا
خوب صورت تھی مری اُستاد اتنی کس لۓ؟
بھوک سے مرنے نہ دیں گے بھائیوں بہنوں کو ہم
حضرت ــ آدم کی ہے اولاد اتنی کس لۓ؟
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






