تم اس کو شعور وفا کہو ہم اسی کو کہتے رہیں بھرم
Poet: Shaheed Fatehpuri By: Arfat Azmi,تم اس کو شعور وفا کہو ہم اسی کو کہتے رہیں بھرم
تم انہیں بتوں کو خدا کہو ہم انہیں بتوں کو کہیں صنم
میرے دل کا ہے اضطراب یا تیرے غم کا یہ التہاب ہے
کبھی کیفِ غم میں ہیں لذتیں کبھی شکوہ سنج غم و الم
یہ جنونِ عشق کی شورشیں یہ جمال دوست کی رونقیں
کروں سجدے تو کن جہات میں یہاں کوئی کیف نہ کوئی کم
یہ تو موسموں کا کمال ہے پھر الگ ہر ایک کا خیال ہے
کبھی لطف میں سینکڑوں ستم کبھی تیری ہر ایک جفا کرم
انہیں میرے دکھ کا خیال ہے انہیں آج تک یہ ملال ہے
وہ جو بے رخی سے گذر گئے تبھی میری آنکھیں ہوئی تھیں نم
یہ حیات و موت کا سلسلہ نہیں ان میں کوئی بھی فاصلہ
وہ جو کے ساتھ تھا صبح دم، گیا ایک پل میں سوئے عدم
میں شہیدؔ مست ازل فقیر، تو ہے فضل رب میرا دستگیر
نہ کسی بھی دور میں بک سکا نہ بکے گا اب بھی مرا قلم
میں فرازِ دار پہ چڑھ گیا تو میرا قد اور بھی بڑھ گیا
تھی مجھے خود اپنی ہی جستجو ،تو انا کا نغمہ تھا ہم قدم
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






