تمہیں محبت ہوئی کسی سے
Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurہمارے دل نے
تمہیں بھلانے کی ٹھان لی ہے
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے تمہیں بھلا دیں
ہماری پلکوں کی چلمنوں میں تمہارا چہرہ چُُُُُھپا ہے
تمہیں جو دیکھا
ہماری دھڑکن کے تار باجے
کھنن کھنن چُُُُوڑیاں پُُُُکاریں
چھنن چھنن پائلوں نے چھیڑا، فضائیں جھومیں
ہتھیلیوں کو حنا نے چوما تو چومتی ہی چلی گئی
یہ زُُُلف گیندے کی خوشبوؤں میں رچی بسی ہے
تمہیں جو دیکھا
ہوا نے سرگوشیوں میں پوچھا
ہو کھوئی کھوئی سی تم کس لیئے
گلاب جیسا تمہارا چہرہ کیا ہے کس نے
یہ تھرتھراتے سے ہونٹ کیسے ہوئے گلابی
تمہارے ماتھے پہ اوس چمکی ہے کیوں اچانک
تمہارے دل کی دھڑک دھڑک میں
کسی کے ہاتھوں کی دستکوں کی ہے تھاپ شامل
یہ بات بہ بات چونک اُُُُُٹھتی ہو کِِِِس لئے تم
سنو،ستاروں سے تم کو باتوں کی خُُُُُُو پڑی ہے بتاؤ کب سے
یہ کب سے تم نے دیے دَََریچے پہ رکھ کے جگنے کی ٹھان لی ہے
سنو سہیلی چھپا رہی ہو
تجھے سوچنا چھوڑ رکھا ہے ہم نے
تجھے سوچنا چھوڑ رکھا ہے ہم نے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






