تری آنکھ کے بھنور سے میں یہ سوچ کر ہی نکلی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiترے آستاں پہ اب بھی مری خندہ یہ جبیں ہے
مری سانس سانس تیری ، مرے دل میں تو مکیں ہے
تری آنکھ کے بھنور سے میں یہ سوچ کر ہی نکلی
"ترے میکدے میں ساقی وہ خمار اب نہیں ہے"
تری یاد کا وہ دریا ، مرے پیار کا سمندر
مری زندگی کہیں ہے ، تری زندگی کہیں ہے
میں نے مشکلوں سے سیکھا تری خواہشوں سے لڑنا
مری سوچ سے بھی بڑھ کر تری آرزو حسیں ہے
تری داستانِ الفت ، ہے یہ داستانِ عبرت
ترے پیار میں وفا کا یہاں راستہ حزیں ہے
تُو بھی اپنے اُس جہاں کے وہاں گیت گا لے وشمہ
یہاں میرے اِس چمن میں مری زندگی مکیں ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






