تجھے رو کے مناؤں
Poet: anam By: anam, karachiتوں مجھے غم دے اور میں مسکراؤں
تو اور بات ہے
عشق تیرے ستم جانتے ہوئے
خود کو آتش عشق میں جلاؤں
تو اور بات ہے
میری ساری وفاؤں کے صلے میں
توں مجھے جدائی انعام دے
اور میں ہس کے گلے سے لگاؤں
تو اور بات ہے
میں تجھے سوچوں چاہوں اور
دیکھنے پانے کی دعائیں مانگوں
توں آئے بن ملے چلا جائے
میں پھر بھی تجھ سے ربط بناؤں
تو اور بات ہے
ساری ساری رات تیرے انتظار میں جاگوں
سو جاؤں تو تیرا دیدار مانگوں
توں کبھی بھول سے پلٹ کر دیکھے
اور میں تیری راہ میں پلکیں بچھاؤں
میرا پیار پھر بھی نہ تجھ کو بھائے
تو اور بات ہے
تجھے رو کے مناؤں
تجھے مینتوں سے سمجھاؤں
میں غم سے نڈھال ہو جاؤں
اور توں میرے حال پر مسکرائے
تو اور بات ہے
تیری بےرخی سے مجھے کیں روگ لگ جائیں
تیرے انتظار میں میری سانسیں روک جائیں
اور میں ابدی نیند سو جاؤں
توں مجھے بھول جائے اور
میری قبر کے پاس سے گزر جائے
تو اور بات ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی







