بہت دنوں کی بات ہے
Poet: By: Nadeem Saeed, lahoreبہت دنوں کی بات ہے
بہار کو بھی یاد نہیں
یہ بات بہت پرانی ہے
آج کی نہیں
بہار پر شباب تھی
فضاء بھی کشگوار تھی
نا جانے کیوں مچل پڑا
میں اپنے گھر سے چل پڑا
گلی کے اک موڑ پر
کسی نے مجھ کو روک کر
بڑی ادا سے ٹوک کر
کہا کے لوٹ آئے
میری قسم نا جائے
میری قسم نا جائے
مگر مجھے خبر نا تھی
ماحول پر نطر نا تھی
نا جانے کیوں مچل پڑا
میں اپنے گھر سے چل پڑا
پھر شہر سے میں آ گیا
خیال تھا کے پا گیا
اسے جو مجھ سے دور تھی
مگر میری ضرور تھی
پھر اک حسین شام کو
میں چل دیا سلام کو
گلی کا رنگ دیکھ کر
نئی ترنگ دیکھ کر
مجھے بڑی خوشی ہوئی
میں اسی خوشی میں تھا ابھی
کسی نے جھانک کر کہا
پرائے گھر سے جائے
میری قسم نا آئے
میری قسم نا آئے
وہی حسین شام ہے
بہار جس کا نام ہے
چلا ہوں گھر کو چھوڑ کر
نا جانے جاؤں گا کدھر
کوئی نہیں جو روک کر
کوئی نہیں جو ٹوک کر
کہے کہ لوٹ آیے
میری قسم نا جائے
میری قسم نا جائے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







