بڑی تکلیف ہوتی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ مجھ سے روٹھ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
میرا دل ٹوٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
جنہیں ہر دم نگاہیں ہر جگہ پر دیکھنا چاہیں
وہ ہی نظر نہ آئیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
کسی کی جستجو میں دور تک جاتی ہوئی نظر
پلٹ کر لوٹ آئے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
ہم تمہاری ہمراہی میں جن راستوں سے گزرے ہیں
ان راستوں پہ تنہا جائیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
ہماری دوستی اور ہماری چاہتوں کا آئینہ
وہ ہی نہ دیکھ پائیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
کسی کی نیند میں ٹھہرا حسیں خوابوں کا سلسلہ
اچانک ٹوٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
مسلسل کام کرنے کی میری عادت پرانی ہے
تسلسل ٹوٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
بہت سی جستجو اور چاہنے کے بعد بھی عظمٰی
وہ منزل چھو نہ پائیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی








