بچھڑ کے وہ آج ملا اتفاق سے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaبچھڑ کے وہ آج ملا اتفاق سے
جیسے خزاں میں پھول کھلا اتفاق سے
بدلا بدلا سا تھا سارا مزاج دل ک
جیسے وہ چھپا رہی تھی کوئی راز دل ک
مجھے دیکھ کے وہ اچانک اُداس ہو گئی
ایک دم سے وہ رقیب کے پاس ہو گئی
جل سا گیا تھا دل یہ تماشا دیکھ کر
رو ساگیا تھا دل اُس کی یہ ادا دیکھ کر
میں اُداس تھا وہ بھی افسردہ تھی
میں بے جان تھا وہ بھی مُردہ تھی
نگاہوں سے معافی کی طلبگار تھی وہ
لگتا تھا کہ مجبوریوں میں گرفتار تھی وہ
راہیں وہی تھی ہم سفر بدل گئے
دل وہی تھے دل بر بدل گئے
کیا خوب کھیلے تقدیر نے کھیل یارو
کیسے موڑ پے کر دیئے پھر میل یارو
معلاقات تو ہوئی پر بات نہ ہو سکی
آنکھ بھر آئی اور دیکو آنکھ نہ رو سکی
وہ بھی چلے گئے چشم نم لئے
ہم بھی لوٹ آئے پھر نیا غم لئے
نہال غمگین میں بھی تھا وہ بھی ضرور تھی
بے بس میں بھی تھا اور وہ بھی مجبور تھی
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






