بند کرو یہ تلخیاں
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ) , K.S.Aبند کرو یہ تلخیاں
میں نے بچپن سے
عذاب دیکھیں ہیں
تم مانو یا نہ مانو مگر
تمہارے آنے سے پہلے
تمہارے آنے کے
خواب دیکھیں ہیں
جن کے سوال ڈھونڈنا
بہت ہو مشکل
میں نے ایسے بھی
جواب دیکھیں ہیں
جن کی روشنی خود کو
ہی کر دے برباد
میں ایسے بھی مہتاب دیکھیں ہیں
بے درد دی سے جن کو
پروں تلے روندہ ہو
جانتے ہو کیا میں نے
وہ نایاب دیکھیں ہیں
چھوڑو ! تم سمجھ کر بھی
کبھی نہیں سمجھو گے
میں نے اپنوں کے چہروں پر
بھی نقاب دیکھیں ہیں
میں رات کو اکثر
روتی روتی ُاٹھ جاتی ہوں
تمہاری یاد کے
اپنے گرد آداب دیکھیں ہیں
میرے روایے میں بہت
تبدلی آ گئی ہے
میں نے خود پر گرتے
جھوٹ کے تیزاب دیکھیں ہیں
دیکھو میری مسکراہٹ پر مت جاؤ
میں نے مردہ خواہشوں کے
اپنے اندر بے پناہ باب دیکھیں ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






