بس کہنےسےڈرتاہوں
Poet: Zeebiii By: Zubair Arshad, Lahoreاک دن خوب بھرےرستےميں
ميں افسردہ چلتا تھا،
گرتا تھا سنبھلتا تھا،
کویٔل ميٹھا گا رہی تھی
اک لڑکی آگےجارہی تھی،
حسن و شباب کاہو پيکر،
دل چاہے کہوں ملکر،
محبت اس سے ہو گیٔ،
وہ راستےميں کھوگیٔ،
پھراچانک!
اپناسرگھما اُس نے،
پلکيں اپنی اُٹھا اُس نے،
زُلفيں اپنی ہٹا اُس نے،
مجھسےيوں کہااُس نے،
کيوں تم مچلےجاتےہو؟
ميرےپيچھےآتے ہو؟
اسکی معصوم باتوں نے،
مجھے سبکچھ بُھلا ديا،
منہ سے زباں کو مٹا دیا،
دل کو ميرے ہلا دیا،
پريشاں مجھے بنا ديا،
ميں ابھی خاموش تھا،
آنکھوں ميں مدہوش تھا،
ديکھا جو پریشاں مجھکو،
کرنے لگی بياں مجھکو،
ميں اکثرديکھاکرتی ہوں!
تم راہ ميں ميری آتے ہو
آخر کيا تم چاہتےہو؟
ميں نے بھی يہ مان ليا،
ميں وہی ہوں جو ہر بارآتا ہوں
تم نے مجھے پہچان لیا،
سچ بتلاؤں کيوں آتا ہوں؟
راہوں ميں ٹھوکر کھاتاہوں
ميں پيار تمھی سےکرتا ہوں!
’’بس کہنےسےڈرتاہوں‘‘
بس کہنےسےڈرتاہوں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






