بارش
Poet: UA By: UA, Lahoreبارش جب جب آتی ہے
روح میں ٹھنڈگ دل میں تازگی اتر آتی ہے
بارش پیاسی زمیں کو جل تھل کرتی ہے
ہریالی سی ہریالی ہر سو پھیلاتی ہے
بارش جب جب آتی ہے
بنجر زمیں میں نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں
گویا کہ بہار ہر سمت اپنا جلوہ دکھاتی ہے
جب جب بارش آتی ہے
دل بہلتا مچلتا اٹھکھیلیاں کرتا ہے
گویا زمیں پر گرتے بارش کے قطروں کی مانند
دل بھی خوشی سے اچھلتا ہے اٹھکھیلیاں کرتا ہے
جب جب بارش آتی ہے
لیکن اب کے بارش آئی تو
پریشانیاں لائی ہے
خلقت خوشی کو ترسی ہے
آنکھوں سے بارش برسی ہے
کتنی ہی بستیاں بارش سے لطف اٹھانے کو ترسیں
آبادیاں ویران ہوئیں ہستی بستی بستیاں پریشان ہوئیں
اب جب بارش آتی ہے تو
روح مضطرب ہوتی ہے
دل دہل سا جاتا ہے
ہاتھ دعائیں کرتے ہے
یا اللہ ابر رحمت کو ابر زحمت نہ کرنا
یا اللہ اس ابر کرم کو ابر ستم نہ کرنا
ارض وطن کو سیلاب کی تباہ کاریوں کی نذر نہ کرنا
ہماری خطائیں معاف فرما دے ہم پہ اپنا کرم کرنا
جب جب بارش آتی ہے
دل سے دعا نکلتی ہے
سیلاب کی منہ زور موجوں کا
آبادیوں میں نہ رخ کرنا
ہم پہ رحم کرنا
ہم سب پہ کرم کرنا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






