باتیں تو بہت سی ہیں لیکن ہر بات کہی نہیں جاتی
Poet: UA By: UA, Lahoreباتیں تو بہت سی ہیں لیکن ہر بات کہی نہیں جاتی
لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر ہر بات لکھی نہیں جاتی
ہزاروں خواہشیں دل میں جنم لیتی ہیں اور مٹ جاتی ہیں
ہونے کو ہو جائے لیکن ہر خواہش پوری کی نہیں جاتی
کوئی کتنا ہی دریا دل کوئی کتنا ہی سخی کیوں نہ ہو
ہر اک شے اپنی کسی کو مگر دے دی نہیں جاتی
بدل ڈال خود کو ہم نے بہت حالات کے آگے
مگر ایک ایسی عادت ہے کہ جو بدلی نہیں جاتی
اگر دل میں اتر جائے تو جو چاہے جتن کر لو
جنوں کی ایسی حالت ہے کہ جو سدھری نہیں جاتی
یہ ہی دیوانوں کا دعوٰی یہ ہی پروانوں کا مسلک
کہ مستی جب چڑھ جاتی ہے تو پھر چھوڑی نہیں جاتی
بہت سی ان کہی باتیں ہم عظمٰی جان لیتے ہیں
مگر اک یہ کہاوت ہے کہ جو سمجھی نہیں جاتی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






