اے جانیوالے تیری وجہ سے ہمارا دل اضطراب میں ہے
Poet: ریحان مُعتبرؔ By: Rehan Singapuri, Karachiاے جانیوالے تیری وجہ سے ہمارا دل اضطراب میں ہے
ہمارے ہمدم بھی کہہ رہے ہیں کہ بہتری اجتناب میں ہے
تھا چاند جیسا تمھارا چہرہ، تھا کتنا پاکیزہ تیرا لہجہ
کہ جب مِلے تھے وہ ایک لمحہ، کیوں آج تک میرے خواب میں ہے
وہ بند ہونٹوں میں ہنسنا تیرا، وہ دیکھ کر یوں سمٹنا تیرا
وہ نیچی نظریں سنبھل کے چلنا کہ جیسے ناؤ سَراب میں ہے
یقیں نہ تھا جب میری وفا پہ، تو لوٹ کر کیوں دوبارہ آئے
یا جانچنا تھا ہمارے دل کوکہ تیرے بن کس عذاب میں ہے
بنا کے رکھا تھا خود کو پتھر، نہیں تو مر جاتے ہم بکھر کر
ُجدا دوبارہ سے ہوکے دِلبر یوں جینا پھر کس کی تاب میں ہے
تم آئے کرنے تھے ہم کو ویراں، ہمارے اخلاق سے ہو حیراں ؟؟
ضیاء تمھاری ہی تھی کہ اپنا شمار اب آفتاب میں ہے
نشانیاں ُتو نے جو تھیں بخشی، وہ اب تلک ہے سنبھال رکھی
جو معتبرؔ کو دیا تھا تُو نے، وہ پھول اب تک کتاب میں ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






