ایک مہرے کا سفر
Poet: Javed Akhtar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIجب وہ کم عمر ہی تھا
اس نے یہ جان لیا تھا کہ اگر جِینا ہے
بڑی چالاکی سے جِینا ہو گا
آنکھ کی آخری حد تک ہے بساطِ ہستی
اور وہ معمولی سا اِک مُہرہ ہے
ایک اک خانہ بہت سوچ کے چلنا ہو گا
بازی آسان نہیں تھی اس کی
دُور تک چاروں طرف پھیلے تھے
مُہرے
جَلّاد
نہایت سَفّاک
سخت بے رحم
بہت ہی چالاک
اپنے قبضے میں لئے
پوری بِساط
اس کے حصّے میں فقط مات لئے
وہ جِدھر جاتا
اسے مِلتا تھا
ہر نیا خانہ نئی گھات لئے
وہ مگر بچتا رہا
چلتا رہا
ایک گھر
دوسرا گھر
تیسرا گھر
پاس آیا کبھی اَوروں کے
کبھی دُور ہوا
وہ مگر بچتا رہا
چلتا رہا
گو کہ معمولی سا مُہرہ تھا مگر جیت گیا
یوں وہ اک روز بڑا مُہرہ بَنا
اب وہ محفوظ ہے اِک خانے میں
اتنا محفوظ کہ دشمن تو الگ
دوست بھی پاس نہیں آ سکتے
اُس کے اِک ہاتھ میں ہے جیِت اُس کی
دوسرے ہاتھ میں تنہائی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






