اک نادان سی لڑکی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاک نادان سی لڑکی
قسمت کے ہاتھوں
بہت ہاری لڑکی
پیار کے ساتھ
ٹوٹے گھر میں بھی
رہنے کو تیار لڑکی
ایک بار بساء لے
کسی کو دل میں
پھر ہر پل ُاسی کی
جستجوں میں لڑکی
ناجانے ہر کوئی اسی
کو گھر بسانے کا کہتا ہیں
جبکہ الجھی ہیں محبتوں
کے زوال میں لڑکی
ہزاوں خواب بنتی ہیں مگر
ہر خواب کہا حقیقت ہوتا ہیں
جان کر بھی انجان ہیں لڑکی
اپنا دل کسی کو سونپ دیتی ہیں
جبکہ فقط اس دل پے ہی
رکھتی ہیں اختیار لڑکی
یہ دنیا نہیں دجال ہیں
پھر کیوں کر لیتی ہیں
اک انجانے شخص
پے اعتبار لڑکی
پھر بھی وہ شخص
ُاسے اپنا نہیں سمجھتا
جبکہ اپنا سارا جہاں
اقرار دے دیتی ہیں ُاسے لڑکی
اک شخص چاہے تو
شہزادی بنا دے اک پل میں
اور اک شخص چاہے تو
پیروں تلے روند دے اک پل میں
مگر پھر بھی اک ُاسی
شخص کی تلاش
میں رہتی ہیں
اک نادان سی لڑکی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






