اپنی زندگی میں اپنوں کو پرایا ہوتے دیکھا ہے میں نے
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamاپنی زندگی میں اپنوں کو پرایا ہوتے دیکھا ہے میں نے
اپنے آپ کو وقت کے آگے بے بس ہوتے دیکھا ہے میں نے
جو تھا کبھی میرا زندگی میں میرے سب سے قریب
اَسےزنگی میں خود سے دور ہوتے دیکھا ہے میں نے
جس کے دل میں بسا تھا ہر وقت کبھی میرا آشیانہ
اَس آشیانے کو ٹوٹ کر بکھرتے دیکھا ہے میں نے
میرے دل کے اندر میں چھپے لاکھوں ارمانوں کو
میرے ہی آشکوں میں نکلتے ہوۓ دیکھا ہے میں نے
جس کی یادوں میں بے قرار رہتے تھے کبھی ہم بھی
اَسے کسی اور کی یادوں میں تڑپتے دیکھا ہے میں نے
ہم نے کبھی جس کے لیے سَجائ تھی سپنوں کی دنیا
اَسی دنیا کے ٹکڑوں کو زندگی میں سمیٹا ہے میں نے
یوں تو اپنی زندگی میں کوئی بھول نہیں ہوئی ہم سے
پر وقت کو اپنے ہی ہاتھوں سے نکلتا دیکھا ہے میں نے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






